قائداعظم کا ویژن اور ہمارا پاکستان

25 دسمبر بانی پاکستان قائداعظم کا یوم ولادت ہے اور اسی روز دنیا بھر کے مسیحی کرسمس مناتے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے قیام کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا‘ اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے اپنی صحت کی پروا کیے بغیر دن رات کام کیا‘ پاکستانی قوم آج بانی پاکستان کا یوم ولادت تزک و احتشام سے منا رہی ہے‘ بلاشبہ زندہ قومیں اپنے اسلاف کے کارناموں کو یاد رکھتی ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ زندہ قومیں جہاں اپنے اسلاف کے کارناموں کو یاد رکھتی ہیں‘ وہاں ان کے کردار و عمل کو سامنے رکھ کر اپنا لائحہ عمل بھی بناتی ہیں۔

 

بدقسمتی سے اگر پاکستان کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ہمارے ہاں برسراقتدار آنے والی مختلف حکومتوں نے قائداعظم کے ویژن کو سامنے رکھ کر اپنی پالیسیاں تشکیل نہیں دیں‘ جس کی وجہ سے پاکستان آج بے شمار مسائل کا شکار ہے۔ قائداعظم پاکستان کو ایک ایسا ملک بنانا چاہتے تھے جہاں کسی قسم کا نسلی یا مذہبی تعصب نہ ہو۔ ان کا اپنا کردار اور ان کی سیاست اسی اصول پر قائم تھی۔ بدقسمتی سے قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد ان کا انتقال ہو گیا اور پھران کے بعد آنے والی حکومتوں نے مصلحت اندیشی یا کم فہمی کی بنا پر ایسی پالیسیاں تشکیل دیں جن کے نتیجے میں پاکستان میں انتہا پسندی کو فروغ حاصل ہوا۔

یہی نہیں بلکہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے پاکستان میں ایسے اقدامات کیے جس کے نتیجے میں ادارہ جاتی زوال کا آغاز ہوا اور کرپشن کو بڑھاوا ملا۔ انھی نااہلیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ آج پاکستان کا کوئی بھی ادارہ درست کام نہیں کر رہا۔ قائداعظم کا یوم ولادت درحقیقت پاکستان کے حکمرانوں کے لیے یوم احتساب بھی ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں کو خود احتسابی سے عمل سے گزرتے ہوئے اس عمل کا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے یہی قائداعظم کا ویژن تھا۔ قائداعظم قانون کی عملداری کے زبردست داعی تھے۔ وہ قانون دان تھے اس لیے قانون کی حکمرانی کے نظریے کے قائل تھے۔ جمہوریت کو وہ بہترین نظام حکومت سمجھتے تھے کیونکہ قیام پاکستان کی جدوجہد بھی انھوں نے جمہوری دائرے میں رہ کر ہی کی تھی ۔ وہ سیاست میں تشدد کے قائل نہیں تھے اسی لیے انھوں نے مسلم لیگ کے کارکنوں کو کبھی ہتھیار اٹھانے کی ہدایت نہیں کی اور نہ ہی کسی تقریر میں کوئی ایسا اشارہ دیا جس سے تشدد کا کوئی راستہ نکلے۔

اقلیتوں کے حوالے سے بھی ان کا ویژن سب کے سامنے ہے۔ وہ پاکستان میں بسنے والے تمام لوگوں کو برابر کاشہری تصور کرتے تھے۔ پہلی قانون ساز اسمبلی میں انھوں نے جو تقریر کی ‘وہی دراصل پاکستان کا آئین تھی لیکن بعد میں ان کے اس ویژن کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں ملک دو لخت ہوا اور آج پاکستان دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے عفریت کا شکار ہے۔پاکستان کو جدیدیت کی راہ پر ڈالنے کے لیے قائد کے ویژن پر عمل کرنا ہو گا۔

ایڈیٹوریل روزنامہ ایکسپریس

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s